بھٹکل 20؍فروری (ایس او نیوز) پچھلے کچھ دنوں سے بھٹکل تعلقہ میں سمندری سیپوں کا گوشت کھانے سے سیکڑوں افراد کے بیمار ہونے کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ اس تعلق سے تحقیقات کے لئے منگلورو میں واقع سنٹرل میرین فشنگ انسٹی ٹیوٹ کی ریسرچ ٹیم ڈاکٹر گیتا ششی کمار کی قیادت میں بھٹکل پہنچی اور یہاں پر مرغوب سمندری غذا کے طور پر استعمال ہونے والے سیپیوں کے گوشت کے تعلق سے معلومات حاصل کرنا شروع کیا ۔
خیال رہے کہ سیپیوں کا گوشت کھانے والے سیکڑوں افراد کو قئے اور دست شروع ہونے کی شکایات موصول ہوئی تھیں اور درجنوں افراد سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لئے رجوع ہوئے تھے ، جن میں سے کئی لوگوں کو اسپتال میں داخل کرلیا گیا تھا۔ اس کے بعد تحصیلدار کے حکم پران سیپیوں کی فروخت پر پابندی لگائی گئی تھی اور بھٹکل بلدیہ کی ہیلتھ آفیسر سوجیا نے مچھلی مارکیٹ کا معائنہ کرتے ہوئے سیپیوں کے نمونے لیباریٹری میں جانچ کے لئے روانہ کردئے تھے۔ منگلورو سے آنے والی مرکزی ٹیم نے بھٹکل بلدیہ ہیلتھ آفیسر سے ملاقات کرکے اس تعلق سے جانکاری حاصل کی۔اس کے علاوہ یہ سیپیاں کس مقام سے یہاں فروخت کے لئے لائی گئی ہیں اور بیمار ہونے والوں کی موجودہ حالت اور علاج کے تعلق سے بھی رپورٹس جمع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ان سیپیوں کے گوشت میں پائے جانے والے زہریلے اجزاء کے بارے میں صحیح نتیجے پر پہنچنا اس تحقیقاتی ٹیم کا اصل مقصد ہے۔
اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر گیتا ششی کمار نے بتایا کہ’’ گوشت کھانے کے لئے استعمال ہونے والی سیپیوں کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں، اب اس علاقے میں کس قسم کی سیپیاں استعمال ہورہی ہیں اس کی نشاندہی کرلینا سب سے اہم کام ہے۔خبر ہے کہ بھٹکل میں سیپیوں کا گوشت کھاکر بیمار ہونے جیسے واقعات اس سے قبل دوسرے مقامات پر بھی سامنے آ چکے ہیں۔اس لئے یہاں استعمال ہونے والی سیپیوں کی جانچ کے بعد ہی ہم کسی قطعی نتیجے پر پہنچ سکیں گے۔‘‘
ایر ناکولم میں جانچ: ماہرین کی ٹیم کے مطابق سیپیوں کے اندر گوشت کو تازہ رکھنے کے لئے کوئی زہریلا کیمیاوی مادہ استعمال کرنے یا پھر گوشت کے سڑنے سے بیکٹیریا پیدا ہونے کے امکانات بھی کم ہیں۔ سیپیوں کے اندر ہی زہریلے مادے کے ساتھ گوشت پیدا ہونے کی گنجائش زیادہ ہے ۔ اس لئے اب یہ جاننا ضروری ہوگیا ہے کہ یہاں استعمال کی گئی سیپیاں کونسی ندیوں اور کس علاقے کے سمندر سے نکالی گئی تھیں۔چونکہ اس میں موجود زہریلے مادے کی نشاندہی کرنا منگلورو کی لیباریٹری میں ممکن نہیں ہے اس لئے اب ا ن سیپیوں کے نمونے جانچ کے لئے ایرناکولم میں واقع لیباریٹری میں بھیجے جائیں گے۔